Friday, 21 December 2018

ایک ملحد کا قرآن پر اعتراض(سلسلہ اعتراضات اور ان کے جوابات)۔ سوره نمل - آیت نمبر 75 ( وَمَا مِنْ غَائِبَةٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ

ایک ملحد کا قرآن پر اعتراض(سلسلہ اعتراضات اور ان کے جوابات)
//////////////////////////////////////////////////////////////////
سوره نمل - آیت نمبر 75  ( وَمَا مِنْ غَائِبَةٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ
اور آسمان اور زمین میں کوئی پوشیدہ چیز نہیں ہے مگر روشن کتاب میں ہے )
سوره نساء - آیت نمبر 81  ( وَيَقُولُونَ طَاعَةٌ فَإِذَا بَرَزُواْ مِنْ عِندِكَ بَيَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَيْرَ الَّذِي تَقُولُ وَاللّهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُونَ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ وَكَفَى بِاللّهِ وَكِيلاً
اور کہتے ہیں کہ مان لیا، پھر وہ آپ کے پاس سے  باہر جاتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ آپ کی کہی ہوئی بات کے برعکس رات کو رائے زنی کرتا ہے، اور اللہ لکھ رہا ہے جو وہ رات بھر منصوبے بناتے ہیں۔ پس  آپ ان سے رخ  پھیر لیجئے اوراللہ پر بھروسہ رکھئیے، اور اللہ کافی کارساز ہے )
سوره نمل - آیت نمبر 75  ( وَمَا مِنْ غَائِبَةٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ
اور آسمان اور زمین میں کوئی پوشیدہ چیز نہیں ہے مگر روشن کتاب میں ہے )
**** کیا یہ بتایا جا سکتا ہے کہ  سوره نمل اور دیگر اور آیات میں اللٰہ تعالٰی فرماتا ہے  کہ سب چیزیں ایک روشن کتاب یا لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں ... اور ...
سوره نساء میں فرما رہا ہے کہ اللہ لکھ رہا ہے جو وہ رات بھر منصوبے بناتے ہیں -
 اگر ایک چیز پہلے سے لکھی ہوئی ہے تو اسی کو پڑھ لو ۔پہلے سے لکھی ہوئ چیز کودوبارہ لکھنے کا کیا مطلب ہے۔
///////////////////////////////////////////////////////////////////
اس اعتراض کا علمی و تحقیقی جواب عنایت فرمائیں۔جزاکم اللٰہ

الجواب

وَمَا مِنْ غَائِبَةٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْ‌ضِ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ ﴿٧٥﴾
آسمان اور زمین کی کوئی پوشیدہ چیز بھی ایسی نہیں جو روشن اور کھلی کتاب میں نہ ہو (١)
٧٥۔١ اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ ان ہی غائب چیزوں میں اس عذاب کا علم بھی ہے جس کے لئے یہ کفار جلدی مچاتے ہیں لیکن اس کا وقت بھی اللہ نے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے جسے صرف وہی جانتا ہے اور جب وہ وقت آ جاتا ہے جو اس نے کسی قوم کی تباہی کے لئے لکھ رکھا ہے، تو پھر اسے تباہ کر دیتا ہے۔ یہ مقررہ وقت آنے سے پہلے جلدی کیوں کرتے ہیں؟
وَيَقُولُونَ طَاعَةٌ فَإِذَا بَرَ‌زُوا مِنْ عِندِكَ بَيَّتَ طَائِفَةٌ مِّنْهُمْ غَيْرَ‌ الَّذِي تَقُولُ ۖ وَاللَّـهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُونَ ۖ فَأَعْرِ‌ضْ عَنْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ وَكِيلًا ﴿٨١﴾
یہ کہتے ہیں کہ اطاعت ہے، پھر جب آپ کے پاس سے اٹھ کر باہر نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک جماعت، جو بات آپ نے یا اس نے کہی ہے اس کے خلاف راتوں کو مشورہ کرتی ہے (١) ان کی راتوں کی بات چیت اللہ لکھ رہا ہے، تو آپ ان سے منہ پھیر لیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں اللہ تعالٰی کافی کارساز ہے۔
٨١۔١یعنی یہ منافقین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں جو باتیں ظاہر کرتے۔ راتوں کو ان کے برعکس باتیں کرتے اور سازشوں کے جال بنتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اعراض کریں اور اللہ پر توکل کریں ان کی باتیں اور سازشیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گی کیونکہ آپ کا ولی اور کارساز اللہ ہے۔اس کے مقررہ کردہ زمین کے فرشتےان سب کے کرتوتوں اور ان تمام باتوں کو اس کے حکم سے ان کے اعمال نامہ میں لکھ رہے ہیں۔بس انہیں ڈانٹا جارہا ہے۔کہ یہ بہودہ حرکت ہے؟ اس سے جس نے تمھیں پیدا کیا اس سے تمھاری کوئی چیز چھپ نہیں سکتی؟جو تم ظاہر باطن یکساں نہیں رکھتے۔ظاہر باطن کا جاننے والا تمھاری اس حرکت پرسخت سزا دے گا۔حوال تفسیر احسن البیان ۔تفسیر ابن کثیر(طلحہ ایر)
دوبارہ سے لکھنا ہر شخص کے ہاتھ میں نامہ اعمال بنا کر تھمانے کے لیے ہے پڑھنے کے لیے نہیں
اور یہ کہا جارہا ہے جو کچھ کر رہے ہو اسے لکھ کر تمہارے ہاتھ میں تھمادیا جائے گا تاکہ تم پڑھ کر ندامت سے حسرتوں کے ساتھ اپنے کرتوتوں سے آگاہ ہوسکو
اگر دونوں آیات کا باہم تقابل کیا جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ ایک آیت میں لوح محفوظ کا علم کی بات کی گئ جو کہ پہلے سے لکھا ہوا ہے اور دوسری آیت میں جہاں لکھنے کی بات کی گئ یہ کفار و منافقین کے اعمال و کرتوت لکھنے کی بات تھی۔خلاصہ یہ کہ ایک بات یعنی قسمت و تقدیر  پہلے سے لکھی ہوئ ہے اور دوسری بات یعنی اعمال لکھے جا رہے ہیں ۔لیکن ملحد نے اس بات پر غور ہی نہیں کیا بلکہ محض اعتراض کرنے کے لیے دو آیات کا تقابل کیے بغیر اعتراض داغ دیا۔(محمد طاہر رضا)
https://m.facebook.com/groups/891915894248140?view=permalink&id=1039525956153799

مکمل تحریر >>

ری فرام تھنکنگ گروپ کے ایک ملحد کا اعتراض ہے کہ واقعہ افک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا پر الزام سنتے ہی خود اس کا انکار کیوں نہیں کیا؟

فری فرام تھنکنگ گروپ کے ایک ملحد کا اعتراض ہے کہ واقعہ افک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا پر الزام سنتے ہی خود اس کا انکار کیوں نہیں کیا۔نعوذ بااللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعے کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاکو اذیت دی اور ان کو طلاق دینے کا ارادہ کیا اور ان کے بارے میں قرآن پاک میں نازل کردہ آیات نعوذ بااللہ خود گھڑ لی۔نعوذ بااللہ۔نقل کفر کفر نباشد۔ساتھ ہی ملحد نے واقعہ افک پر بخاری شریف میں موجود ایک حدیث بھی نقل کی ہے۔جو صحیح بخاری جلد دوم حدیث1360 پر موجود ہے۔
اب ہم اس حدیث اور  اعتراض کا جائزہ لیتے ہیں۔اس حدیث کا بیان کچھ اس طرح ہے۔
صحیح بخاری ۔ جلد دوم ۔ غزوات کا بیان ۔ حدیث 1360
قصہ افک یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر تہمت لگانے کا بیان افک کا لفظ نجس اور نجس کی طرح ہے اور کہتے ہیں اس کو افکھم۔
راوی: عبدالعزیز بن عبداللہ , ابراہیم بن سعد , صالح بن کیسان , ابن شہاب
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْکِ مَا قَالُوا وَکُلُّهُمْ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ حَدِيثِهَا وَبَعْضُهُمْ کَانَ أَوْعَی لِحَدِيثِهَا مِنْ بَعْضٍ وَأَثْبَتَ لَهُ اقْتِصَاصًا وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ کُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا وَإِنْ کَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَی لَهُ مِنْ بَعْضٍ قَالُوا قَالَتْ عَائِشَةُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ أَزْوَاجِهِ فَأَيُّهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَخَرَجَ فِيهَا سَهْمِي فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ فَکُنْتُ أُحْمَلُ فِي هَوْدَجِي وَأُنْزَلُ فِيهِ فَسِرْنَا حَتَّی إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَتِهِ تِلْکَ وَقَفَلَ دَنَوْنَا مِنْ الْمَدِينَةِ قَافِلِينَ آذَنَ لَيْلَةً بِالرَّحِيلِ فَقُمْتُ حِينَ آذَنُوا بِالرَّحِيلِ فَمَشَيْتُ حَتَّی جَاوَزْتُ الْجَيْشَ فَلَمَّا قَضَيْتُ شَأْنِي أَقْبَلْتُ إِلَی رَحْلِي فَلَمَسْتُ صَدْرِي فَإِذَا عِقْدٌ لِي مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ قَدْ انْقَطَعَ فَرَجَعْتُ فَالْتَمَسْتُ عِقْدِي فَحَبَسَنِي ابْتِغَاؤُهُ قَالَتْ وَأَقْبَلَ الرَّهْطُ الَّذِينَ کَانُوا يُرَحِّلُونِي فَاحْتَمَلُوا هَوْدَجِي فَرَحَلُوهُ عَلَی بَعِيرِي الَّذِي کُنْتُ أَرْکَبُ عَلَيْهِ وَهُمْ يَحْسِبُونَ أَنِّي فِيهِ وَکَانَ النِّسَائُ إِذْ ذَاکَ خِفَافًا لَمْ يَهْبُلْنَ وَلَمْ يَغْشَهُنَّ اللَّحْمُ إِنَّمَا يَأْکُلْنَ الْعُلْقَةَ مِنْ الطَّعَامِ فَلَمْ يَسْتَنْکِرْ الْقَوْمُ خِفَّةَ الْهَوْدَجِ حِينَ رَفَعُوهُ وَحَمَلُوهُ وَکُنْتُ جَارِيَةً حَدِيثَةَ السِّنِّ فَبَعَثُوا الْجَمَلَ فَسَارُوا وَوَجَدْتُ عِقْدِي بَعْدَ مَا اسْتَمَرَّ الْجَيْشُ فَجِئْتُ مَنَازِلَهُمْ وَلَيْسَ بِهَا مِنْهُمْ دَاعٍ وَلَا مُجِيبٌ فَتَيَمَّمْتُ مَنْزِلِي الَّذِي کُنْتُ بِهِ وَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ سَيَفْقِدُونِي فَيَرْجِعُونَ إِلَيَّ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسَةٌ فِي مَنْزِلِي غَلَبَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ وَکَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ ثُمَّ الذَّکْوَانِيُّ مِنْ وَرَائِ الْجَيْشِ فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِي فَرَأَی سَوَادَ إِنْسَانٍ نَائِمٍ فَعَرَفَنِي حِينَ رَآنِي وَکَانَ رَآنِي قَبْلَ الْحِجَابِ فَاسْتَيْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِهِ حِينَ عَرَفَنِي فَخَمَّرْتُ وَجْهِي بِجِلْبَابِي وَ وَاللَّهِ مَا تَکَلَّمْنَا بِکَلِمَةٍ وَلَا سَمِعْتُ مِنْهُ کَلِمَةً غَيْرَ اسْتِرْجَاعِهِ وَهَوَی حَتَّی أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ فَوَطِئَ عَلَی يَدِهَا فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَرَکِبْتُهَا فَانْطَلَقَ يَقُودُ بِي الرَّاحِلَةَ حَتَّی أَتَيْنَا الْجَيْشَ مُوغِرِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ وَهُمْ نُزُولٌ قَالَتْ فَهَلَکَ مَنْ هَلَکَ وَکَانَ الَّذِي تَوَلَّی کِبْرَ الْإِفْکِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ قَالَ عُرْوَةُ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ کَانَ يُشَاعُ وَيُتَحَدَّثُ بِهِ عِنْدَهُ فَيُقِرُّهُ وَيَسْتَمِعُهُ وَيَسْتَوْشِيهِ وَقَالَ عُرْوَةُ أَيْضًا لَمْ يُسَمَّ مِنْ أَهْلِ الْإِفْکِ أَيْضًا إِلَّا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَمِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ وَحَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ فِي نَاسٍ آخَرِينَ لَا عِلْمَ لِي بِهِمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ عُصْبَةٌ کَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَی وَإِنَّ کِبْرَ ذَلِکَ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ قَالَ عُرْوَةُ کَانَتْ عَائِشَةُ تَکْرَهُ أَنْ يُسَبَّ عِنْدَهَا حَسَّانُ وَتَقُولُ إِنَّهُ الَّذِي قَالَ فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْکُمْ وِقَائُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَاشْتَکَيْتُ حِينَ قَدِمْتُ شَهْرًا وَالنَّاسُ يُفِيضُونَ فِي قَوْلِ أَصْحَابِ الْإِفْکِ لَا أَشْعُرُ بِشَيْئٍ مِنْ ذَلِکَ وَهُوَ يَرِيبُنِي فِي وَجَعِي أَنِّي لَا أَعْرِفُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللُّطْفَ الَّذِي کُنْتُ أَرَی مِنْهُ حِينَ أَشْتَکِي إِنَّمَا يَدْخُلُ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُولُ کَيْفَ تِيکُمْ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَذَلِکَ يَرِيبُنِي وَلَا أَشْعُرُ بِالشَّرِّ حَتَّی خَرَجْتُ حِينَ نَقَهْتُ فَخَرَجْتُ مَعَ أُمِّ مِسْطَحٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ وَکَانَ مُتَبَرَّزَنَا وَکُنَّا لَا نَخْرُجُ إِلَّا لَيْلًا إِلَی لَيْلٍ وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ نَتَّخِذَ الْکُنُفَ قَرِيبًا مِنْ بُيُوتِنَا قَالَتْ وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الْأُوَلِ فِي الْبَرِّيَّةِ قِبَلَ الْغَائِطِ وَکُنَّا نَتَأَذَّی بِالْکُنُفِ أَنْ نَتَّخِذَهَا عِنْدَ بُيُوتِنَا قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ وَهِيَ ابْنَةُ أَبِي رُهْمِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَأُمُّهَا بِنْتُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ خَالَةُ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ وَابْنُهَا مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ فَأَقْبَلْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ بَيْتِي حِينَ فَرَغْنَا مِنْ شَأْنِنَا فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحٌ فَقُلْتُ لَهَا بِئْسَ مَا قُلْتِ أَتَسُبِّينَ رَجُلًا شَهِدَ بَدْرًا فَقَالَتْ أَيْ هَنْتَاهْ وَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ قَالَتْ وَقُلْتُ مَا قَالَ فَأَخْبَرَتْنِي بِقَوْلِ أَهْلِ الْإِفْکِ قَالَتْ فَازْدَدْتُ مَرَضًا عَلَی مَرَضِي فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَی بَيْتِي دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ کَيْفَ تِيکُمْ فَقُلْتُ لَهُ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ آتِيَ أَبَوَيَّ قَالَتْ وَأُرِيدُ أَنْ أَسْتَيْقِنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا قَالَتْ فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لِأُمِّي يَا أُمَّتَاهُ مَاذَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ قَالَتْ يَا بُنَيَّةُ هَوِّنِي عَلَيْکِ فَوَاللَّهِ لَقَلَّمَا کَانَتْ امْرَأَةٌ قَطُّ وَضِيئَةً عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا لَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا کَثَّرْنَ عَلَيْهَا قَالَتْ فَقُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ أَوَلَقَدْ تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهَذَا قَالَتْ فَبَکَيْتُ تِلْکَ اللَّيْلَةَ حَتَّی أَصْبَحْتُ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَکْتَحِلُ بِنَوْمٍ ثُمَّ أَصْبَحْتُ أَبْکِي قَالَتْ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ يَسْأَلُهُمَا وَيَسْتَشِيرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ قَالَتْ فَأَمَّا أُسَامَةُ فَأَشَارَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَائَةِ أَهْلِهِ وَبِالَّذِي يَعْلَمُ لَهُمْ فِي نَفْسِهِ فَقَالَ أُسَامَةُ أَهْلَکَ وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا وَأَمَّا عَلِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ يُضَيِّقْ اللَّهُ عَلَيْکَ وَالنِّسَائُ سِوَاهَا کَثِيرٌ وَسَلْ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْکَ قَالَتْ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِيرَةَ فَقَالَ أَيْ بَرِيرَةُ هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَيْئٍ يَرِيبُکِ قَالَتْ لَهُ بَرِيرَةُ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُ عَلَيْهَا أَمْرًا قَطُّ أَغْمِصُهُ غَيْرَ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْکُلُهُ قَالَتْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِي عَنْهُ أَذَاهُ فِي أَهْلِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَی أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا وَلَقَدْ ذَکَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا وَمَا يَدْخُلُ عَلَی أَهْلِي إِلَّا مَعِي قَالَتْ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْذِرُکَ فَإِنْ کَانَ مِنْ الْأَوْسِ ضَرَبْتُ عُنُقَهُ وَإِنْ کَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا مِنْ الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَکَ قَالَتْ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْخَزْرَجِ وَکَانَتْ أُمُّ حَسَّانَ بِنْتَ عَمِّهِ مِنْ فَخِذِهِ وَهُوَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ قَالَتْ وَکَانَ قَبْلَ ذَلِکَ رَجُلًا صَالِحًا وَلَکِنْ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ فَقَالَ لِسَعْدٍ کَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَا تَقْتُلُهُ وَلَا تَقْدِرُ عَلَی قَتْلِهِ وَلَوْ کَانَ مِنْ رَهْطِکَ مَا أَحْبَبْتَ أَنْ يُقْتَلَ فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدٍ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ کَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ فَإِنَّکَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنْ الْمُنَافِقِينَ قَالَتْ فَثَارَ الْحَيَّانِ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَتَّی هَمُّوا أَنْ يَقْتَتِلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَی الْمِنْبَرِ قَالَتْ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّی سَکَتُوا وَسَکَتَ قَالَتْ فَبَکَيْتُ يَوْمِي ذَلِکَ کُلَّهُ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَکْتَحِلُ بِنَوْمٍ قَالَتْ وَأَصْبَحَ أَبَوَايَ عِنْدِي وَقَدْ بَکَيْتُ لَيْلَتَيْنِ وَيَوْمًا لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَکْتَحِلُ بِنَوْمٍ حَتَّی إِنِّي لَأَظُنُّ أَنَّ الْبُکَائَ فَالِقٌ کَبِدِي فَبَيْنَا أَبَوَايَ جَالِسَانِ عِنْدِي وَأَنَا أَبْکِي فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَذِنْتُ لَهَا فَجَلَسَتْ تَبْکِي مَعِي قَالَتْ فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَی ذَلِکَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ قَالَتْ وَلَمْ يَجْلِسْ عِنْدِي مُنْذُ قِيلَ مَا قِيلَ قَبْلَهَا وَقَدْ لَبِثَ شَهْرًا لَا يُوحَی إِلَيْهِ فِي شَأْنِي بِشَيْئٍ قَالَتْ فَتَشَهَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَلَسَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ إِنَّهُ بَلَغَنِي عَنْکِ کَذَا وَکَذَا فَإِنْ کُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُکِ اللَّهُ وَإِنْ کُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَتْ فَلَمَّا قَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَتَهُ قَلَصَ دَمْعِي حَتَّی مَا أُحِسُّ مِنْهُ قَطْرَةً فَقُلْتُ لِأَبِي أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي فِيمَا قَالَ فَقَالَ أَبِي وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لِأُمِّي أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا قَالَ قَالَتْ أُمِّي وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ لَا أَقْرَأُ مِنْ الْقُرْآنِ کَثِيرًا إِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَقَدْ سَمِعْتُمْ هَذَا الْحَدِيثَ حَتَّی اسْتَقَرَّ فِي أَنْفُسِکُمْ وَصَدَّقْتُمْ بِهِ فَلَئِنْ قُلْتُ لَکُمْ إِنِّي بَرِيئَةٌ لَا تُصَدِّقُونِي وَلَئِنْ اعْتَرَفْتُ لَکُمْ بِأَمْرٍ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي مِنْهُ بَرِيئَةٌ لَتُصَدِّقُنِّي فَوَاللَّهِ لَا أَجِدُ لِي وَلَکُمْ مَثَلًا إِلَّا أَبَا يُوسُفَ حِينَ قَالَ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَی مَا تَصِفُونَ ثُمَّ تَحَوَّلْتُ وَاضْطَجَعْتُ عَلَی فِرَاشِي وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي حِينَئِذٍ بَرِيئَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ مُبَرِّئِي بِبَرَائَتِي وَلَکِنْ وَاللَّهِ مَا کُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ مُنْزِلٌ فِي شَأْنِي وَحْيًا يُتْلَی لَشَأْنِي فِي نَفْسِي کَانَ أَحْقَرَ مِنْ أَنْ يَتَکَلَّمَ اللَّهُ فِيَّ بِأَمْرٍ وَلَکِنْ کُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ بِهَا فَوَاللَّهِ مَا رَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسَهُ وَلَا خَرَجَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ حَتَّی أُنْزِلَ عَلَيْهِ فَأَخَذَهُ مَا کَانَ يَأْخُذُهُ مِنْ الْبُرَحَائِ حَتَّی إِنَّهُ لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِنْ الْعَرَقِ مِثْلُ الْجُمَانِ وَهُوَ فِي يَوْمٍ شَاتٍ مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ قَالَتْ فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَضْحَکُ فَکَانَتْ أَوَّلَ کَلِمَةٍ تَکَلَّمَ بِهَا أَنْ قَالَ يَا عَائِشَةُ أَمَّا اللَّهُ فَقَدْ بَرَّأَکِ قَالَتْ فَقَالَتْ لِي أُمِّي قُومِي إِلَيْهِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقُومُ إِلَيْهِ فَإِنِّي لَا أَحْمَدُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَتْ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی إِنَّ الَّذِينَ جَائُوا بِالْإِفْکِ عُصْبَةٌ مِنْکُمْ الْعَشْرَ الْآيَاتِ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ هَذَا فِي بَرَائَتِي قَالَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ وَکَانَ يُنْفِقُ عَلَی مِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَةَ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَفَقْرِهِ وَاللَّهِ لَا أُنْفِقُ عَلَی مِسْطَحٍ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ مَا قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ إِلَی قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ قَالَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ بَلَی وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي فَرَجَعَ إِلَی مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي کَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ وَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَنْزِعُهَا مِنْهُ أَبَدًا قَالَتْ عَائِشَةُ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ عَنْ أَمْرِي فَقَالَ لِزَيْنَبَ مَاذَا عَلِمْتِ أَوْ رَأَيْتِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْمِي سَمْعِي وَبَصَرِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَيْرًا قَالَتْ عَائِشَةُ وَهِيَ الَّتِي کَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِالْوَرَعِ قَالَتْ وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ تُحَارِبُ لَهَا فَهَلَکَتْ فِيمَنْ هَلَکَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِ هَؤُلَائِ الرَّهْطِ ثُمَّ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ وَاللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ مَا قِيلَ لَيَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا کَشَفْتُ مِنْ کَنَفِ أُنْثَی قَطُّ قَالَتْ ثُمَّ قُتِلَ بَعْدَ ذَلِکَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
عبدالعزیز بن عبداللہ، ابراہیم بن سعد، صالح بن کیسان، ابن شہاب سے روایت کرتے ہں انہوں نے کہا کہ مجھ سے عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے حدیث بیان کی کہ ان چاروں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ محترمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اس تہمت کا قصہ بیان کیا اور ان میں سے ہر ایک اس حدیث کا ایک ایک ٹکڑا روایت کرتے ہیں اور بعض کو بعض سے یہ حدیث زیادہ یاد تھی اور بیان کرنے میں بہت صحیح تھے۔ میں نے ہر ایک کی حدیث جو انہوں نے مجھ سے بیان کی یاد رکھی ہے چنانچہ یہ چاروں حضرات بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر پر جانے کا قصد فرماتے تھے ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ ڈالتے تھے جس کا نام قرعہ میں نکلتا اس کو ساتھ لے جاتے تھے ایک مرتبہ قرعہ میں میرا نام آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے ہمراہ لے گئے یہ وقت وہ تھا جب کہ پردہ کی آیات نازل ہو چکی تھیں چنانچہ میں پردہ کے ساتھ اونٹ کے ہودے میں سوار کرائی جاتی تھی اور اتاری جاتی تھی غرض کہ جب ہم رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ سے فارغ ہو کر واپس لوٹے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گئے تو رات کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چلنے کا حکم دیا تو میں رفع حاجت کی غرض سے گئی اور لشکر سے دور نکل گئی واپس آئی اور جب سوار ہونے کے لئے اپنی سواری کے قریب آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ میرا ہار جو خزف یمنی کا تھا وہ کہیں ٹوٹ کر گر پڑا ہے میں فوراً واپس لوٹی اور ہار تلاش کرنے لگی اس میں مجھے دیر ہوگئی جن لوگوں کے سپرد مجھے ہو دے پر سوار کرنے کا کام تھا انہوں نے ہودے کو اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیا اور سمجھے کہ شاید میں اپنے ہودے میں بیٹھی ہوں اس زمانہ میں عورتیں ہلکی ہوتی تھیں کیونکہ غذا سادی اور غیر مرغن کھائی جاتی تھی اس لئے ہودہ اٹھانے والوں کو کچھ پتہ نہیں چلا دوسرے میں بہت کمسن بھی تھی اس کے بعد وہ سب اونٹ لے کر چل دیئے۔ مجھے ہار اس وقت ملا جب کہ لشکر اپنے مقام سے روانہ ہو چکا تھا میں اپنی جگہ پر بیٹھ گئی اس خیال سے کہ جب لوگوں کو میرے رہ جانے کی خبر ہوگی تو وہ ضرور تلاش کرنے کی غرض سے واپس آئیں گے میں بیٹھے بیٹھے سو گئی۔ صفوان بن معطل سلمی جو بعد کو ذکوانی کے نام سے مشہور ہوئے وہ لشکر کے پیچھے پیچھے رہا کرتے تھے تاکہ گری پڑی چیزیں اٹھاتے ہوئے آئیں وہ صبح کو جب قریب پہنچے تو مجھے سوتا ہوا دیکھ کر پہچان لیا کیونکہ وہ پردہ سے پہلے مجھے دیکھ چکے تھے۔ اس نے زور سے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا تو میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنی چادر سے اپنا منہ چھپا لیا اللہ کی قسم! ہم دونوں نے کوئی بات نہیں کی اور نہ میں نے سوائے انا للہ کے کوئی بات اس سے سنی۔ صفوان نے اپنی سواری سے اتر کر اس کے دست و پا کو باندھ دیا اور میں اس پر بیٹھ گئی صفوان آگے آگے اونٹ کو کھینچتا ہوا چلا اور ہم دوپہر کے قریب شدت کی گرمی میں لشکر میں پہنچ گئے اور وہ سب ٹھہرے ہوئے تھے۔ پھر جسے تہمت لگا کر ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہوا۔ اور جو سب سے زیادہ محرک اس حرکت بہتان کا ہوا وہ منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی بن سلول تھا عروہ کہتے ہیں مجھے معلوم ہوا ہے کہ عبداللہ بن ابی بن سلول کے پاس جب افک کا ذکر ہوتا تھا تو وہ اس کا اقرار کرتا تھا اور اس کو سنتا اور بیان کرتا تھا عروہ کہتے ہیں کہ بہتان لگانے والوں میں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش کے علاوہ کوئی بیان نہیں کیا گیا باقی کا مجھے کوئی علم نہیں ہے۔ مگر ان کی ایک جماعت ہے جس کے متعلق اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے والذی تو لی کبرہ منھم لہ عذاب الیم یعنی جو ان کا سر غنہ ہے اس کے لئے درد ناک عذاب ہے اور ان سب کا بڑا یہ ہی ( عبداللہ بن ابی بن سلول) ہے عروہ کہتے ہیں کہ اگرچہ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تہمت لگائی تھی مگر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کو برا کہنا پسند نہیں کرتی تھیں اس لئے کہ یہ شعر حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی نے کہا ہے۔ میرا باپ دادا اور میری عزت و آبرو سب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عزت کا بچاؤ ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں مدینہ میں ایک مہینہ تک بیمار رہی اور لوگوں میں تہمت کے متعلق بات چیت ہوتی رہی اور میرا شک بڑھتا رہا اور قدرے اس وجہ سے زور پیدا ہوتا رہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بیماری میں پہلے کی طرح مہربان نہیں دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لاتے اور صرف اتنا دریافت کرکے چلے جاتے کہ اب تم کیسی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرزعمل سے میری بیماری میں کچھ اضافہ ہوتا تھا مجھے اس طوفان کی کوئی خبر نہیں تھی غرض جب مجھے کچھ صحت ہوئی تو میں مسطح کی ماں کے ساتھ رفع حاجت کے لئے گئی اور ہم ہمیشہ راتوں کو جایا کرتے تھے ایک رات کو جاتے پھر دوسری رات کو جاتے یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ ہمارے گھروں کے قریب بیت الخلاء نہیں بنے تھے اور ہم عربوں کی عادت قدیمہ کی طرح اس کام کے لئے جنگل ہی میں جایا کرتے تھے کیونکہ گھروں میں بیت الخلاء کے بنانے سے ہم کو تکلیف رہتی ہے میں اور مسطح کی ماں جو کہ ابورہم بن عبدالمطلب بن عبدمناف کی بیٹی تھی اور اس کی ماں صخر بن عامر کی بیٹی تھی اور وہ میرے والد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خالہ تھیں اور مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب اس کا بیٹا تھا ہم اس کے ساتھ گئے جب دونوں فارغ ہو کر لوٹے تو اس کا پیر راستہ میں چادر میں الجھا اور وہ گر پڑی اور مسطح کو برا کہا میں نے کہا ارے تم مسطح کو برا کہتی ہو وہ تو جنگ بدر میں شریک تھا اس نے کہا اے اللہ کی بندی! تم نے مسطح کی بات نہیں سنی میں نے کہا کیا بات؟ تو اس نے وہ بات بیان کی یہ سن کر میری بیماری دگنی ہوگئی میں گھر آئی اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور ہی سے سلام علیک کے بعد مجھ سے پوچھا اور فرمایا کیسی ہو؟ میں نے عرض کیا مجھے میرے ماں باپ کے گھر جانے کی اجازت دے دیجئے میرا خیال تھا کہ میں ان کے پاس پہنچ کر اس بات کی تحقیق کرلوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت عطا کردی میں گھر آئی اور اپنی ماں سے کہا ماں یہ لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا بیٹی تم اس کا بالکل مت غم کرو یہ تو شروع سے ہوتا چلا آیا ہے کہ جب کسی خوبصورت عورت کی سوکنیں ہوتی ہیں اور شوہر کو اس سے کچھ زیادہ محبت ہوتی ہے تو اس قسم کے فریب نکلتے رہتے ہیں میں نے کہا سبحان اللہ! لوگ ایسی باتیں منہ سے نکالنے لگے خیر میں رات بھر روتی رہی اور صبح ہوگئی نہ آنسو تھمے اور نہ نیند آئی اس کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ جب وحی الٰہی آنے میں دیر لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور اس معاملہ میں مشورہ کیا اسامہ جوا زواج مطہرات کی پاک دامنی سے واقف تھا کہنے لگا یا رسول اللہ! حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں اپنے پاس ہی رکھئے میں ان میں کوئی برائی نہیں دیکھتا۔ وہ نیک اور پاک دامن ہیں پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے عورتوں کی کیا کمی ہے اور بھی بہت عورتیں موجود ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بریرہ خادمہ سے دریافت کیجئے وہ سب قصہ بیان کردے گی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  فرماتی ہیں کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو طلب کیا اور فرمایا اے بریرہ! عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کوئی بے جا بات اگر تجھے معلوم ہو اور دیکھی ہو تو اس کو بیان کر۔ بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا اس اللہ قدوس کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنا کر مبعوث فرمایا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھی کہ میں اس تہمت کی تصدیق کرسکوں ہاں وہ نہایت کمسن لڑکی ہے اور اس کے بھولے پن کی یہ حالت ہے کہ آٹا گوندھ کر سوجاتی ہے اور بکری آکر کھاجاتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات سن کر کھڑے ہو گئے اور منبر پر آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی سلول کے متعلق فرمایا مسلمانو! اس شخص سے کون بدلہ لیتا ہے جس نے میری بی بی پر الزام لگایا ہے اور اس بدنامی کو مجھ تک لایا ہے اللہ کی قسم! میں اپنی بی بی کو نیک اور پاک دامن ہی سمجھتا ہوں اور جس غریب کو اس اتہام میں شریک کر رہے ہیں اس کو اچھا آدمی سمجھتا ہوں کبھی میری غیر موجودگی میں میری بی بی کے پاس نہیں گیا یہ کلام سنتے ہی سعد بن معاذ قبیلہ بنی شہل کے کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی تعمیل کرتا ہوں۔ اگر یہ شخص میرے قبیلہ کا ہے تو بھی اس کی گردن مار کر حاضر کرتا ہوں اور اگر یہ ہمارے بھائیوں خزرج قبیلہ سے ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو حکم دیں گے اس پر عمل کیا جائے گا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں یہ سن کر قبیلہ خزرج کا ایک شخص کھڑا ہوا جس کی ماں حسان کی چچا زاد بہن ہوتی تھی اور اس کے قبیلہ کی تھی اس کا نام سعد بن عبادہ تھا اور وہ خزرج کا سردار تھا کھڑا ہوا اور کہنے لگا واللہ تو جھوٹا ہے اور کبھی اس کو نہیں مار سکتا اور نہ تیری مجال ہے کہ تو اس کو مارے اور اگر وہ تیری قوم کا ہوتا تو کبھی تو اس کا قتل کرنا گوارہ نہ کرتا یہ سن کر اسید بن حضیر کھڑے ہو کر کہنے لگے اور اسید، سعد بن معاذ کے چچا زاد بھائی تھے اللہ کی قسم! ہم اس کو ضرور قتل کریں گے تو منافق ہے اور منافقوں کی حمایت کرتا ہے۔ حالانکہ یہ شخص پہلے نیک تھا مگر اب قوم کی پج کر رہا تھا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اس گفتگو کے بعد اوس اور خزرج دونوں قبیلوں کے لوگ کھڑے ہو گئے اور لڑنے پر مستعد نظر آنے لگے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے ان کو خاموش کر رہے تھے۔ آخر وہ خاموش ہو گئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  فرماتی ہیں کہ میں تمام دن روتی رہی نہ آنسو تھمے اور نہ نیند آتی تھی اور میرے ماں باپ بھی کبیدہ خاطر تھے۔ میں دو دن رات برابر روتی رہی نہ آنسو تھمے اور نہ نیند آئی اور میں سمجھنے لگی کہ اب میرا کلیجہ پھٹ جائے گا ماں باپ میرے پاس موجود تھے۔ اتنے میں انصار کی ایک عورت اجازت لے کر میرے پاس آئی اور وہ بھی رونے لگی۔ مجھے اس کا نام معلوم نہیں ہو سکا آخر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور سلام کے بعد میرے پاس بیٹھ گئے ورنہ ابھی تک اس دن سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاس نہیں بیٹھے تھے۔ تہمت کے بعد ایک مہینہ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے رہے اور میرے بارے میں کوئی وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں آئی۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے کلمہ شہادت پڑھا اور اس کے بعد فرمایا اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا! مجھے تمہاری نسبت اس قسم کی اطلاع ملی ہے۔ اگر تم بے گناہ ہو تو اللہ تعالیٰ عنقریب تمہاری پاک دامنی ظاہر فرما دے گا۔ اگر تم سے کوئی گناہ ہوگیا ہے تو اللہ سے توبہ کرو اور مغفرت چاہو اس لئے کہ بندہ اگر اپنے گناہ کا اقرار کر لے اور پھر توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ بخش دیتا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی بات ختم فرما چکے تو حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میرے آنسو فورا بند ہو گئے اور ایک قطرہ بھی نہیں رہا پھر میں نے اپنے والد سے کہا کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا جواب دو۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا جواب دوں۔ پھر میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیجئے۔ مگر انہوں نے بھی مجھے یہی جواب دے دیا۔ جب میں نے ان کو جواب سے عاجز دیکھا تو خود ہی جواب دینا شروع کیا۔ حالانکہ میں اس وقت کم عمر تھی اور قرآن بھی بہت کم جانتی تھی۔ میں نے کہا اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو سنا اور وہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جم گئی اور میری طرف سے شبہ پیدا ہوگیا اب اگر میں اپنی بے گناہی بھی بیان کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سچا نہیں جانیں گے۔ ہاں اگر میں گناہ کا اقرار کرلوں اور میں حقیقت میں اس سے پاک ہوں تو آپ مانیں گے اللہ گواہ ہے اب میری اور آپ کی وہی حالت ہے جو یوسف کے والد (یعقوب) کی تھی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا (فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَی مَا تَصِفُونَ) اب یہی بہتر ہے کہ اچھی طرح صبر کیا جائے یہ کہہ کر میں نے منہ گھمالیا اور بستر پر خاموش لیٹ گئی کیونکہ مجھے یقین تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ میں بے گناہ ہوں اور وہ میری بے گناہی کو ظاہر کردے گا مگر مجھے یہ خیال نہ تھا کہ میرے معاملہ میں قرآن کی کوئی آیت نازل کی جائے گی اور پھر وہ قیامت تک پڑھی جائیں گی کیونکہ میں اپنی حیثیت اتنی نہ سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے متعلق کلام فرمائے گا ہاں یہ امید تھی کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں میرے متعلق کچھ معلوم ہوجائے گا جس سے میری بے گناہی ثابت ہوجائے گی اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے اٹھے بھی نہ تھے نہ کوئی گھر کا آدمی باہر گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی حالت طاری ہوگئی جیسا کہ وحی کے وقت ہوا کرتی تھی یہ سختی اس کلام کے وزن کی وجہ سے ہوتی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتا تھا کہ سردی کے ایام میں بھی جسم مبارک سے پسینہ ٹپکنے لگتا تھا غرض جب وحی کی حالت گزر چکی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا اور سب سے پہلی یہ بات فرمائی کہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، اللہ نے تمہاری پاک دامنی بیان فرمادی میری ماں نے فوراً مجھے کہا کہ اٹھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ ادا کرو۔ میں نے کہا اللہ کی قسم! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ ادا نہیں کروں گی بلکہ اپنے پروردگار کا شکریہ ادا کروں گی اور اللہ تعالیٰ نے یہ دس آیات اس باب میں نازل فرمائیں (إِنَّ الَّذِينَ جَائُوا بِالْإِفْکِ عُصْبَةٌ مِنْکُمْ الی اٰخرہ) یعنی جن لوگوں نے تمہارے اوپر یہ بہتان اٹھایا ہے آخر تک اور میرے رب نے میری بے گناہی کو ظاہر فرمادیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو رشتہ دار کی غربت کی وجہ سے مسطح کے ساتھ کچھ سلوک کیا کرتے تھے انہوں نے مسطح کے متعلق یہ سوچا تھا کہ اب میں ان کے ساتھ کوئی بھلائی نہیں کروں گا کیونکہ اس نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اس طرح متہم کیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ترجمہ) جو لوگ تم میں بزرگ اور صاحب فضل ہیں وہ اس طرح قسم نہ کھائیں اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے کہ میں تو خوش ہوں کہ اللہ مجھے بخش دے اور پھر وہ مسطح سے جو سلوک کیا کرتے تھے وہ جاری کردیا اور کہنے لگے واللہ میں اس سلسلہ کو کبھی بند نہ کروں گا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تہمت کے ایام میں ام المومنین زینب سے جو میری سوکن ہیں میرا حال دریافت کیا کہ تم عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو کیسا جانتی ہو اور تم نے ان کو کیسا پایا۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے کان اور اپنی آنکھوں کو محفوظ رکھتی ہوں (برائی وغیرہ سے) واللہ میں تو عائشہ کو نیک اور بہتر ہی سمجھتی ہوں حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں زینب میرے برابر کی تھیں۔ اللہ نے ان کی نیکی کی وجہ سے ان کو محفوظ رکھا مگر ان کی بہن حمنہ نے لڑائی شروع کردی اور وہ بھی تہمت لگانے والوں کے ہمراہ ہلاک ہوگئیں، ابن شہاب کا قول ہے کہ یہ حدیث چار آدمیوں سے مجھے پہنچی عروہ، سعید، علقمہ، عبیداللہ۔ عروہ نے یہ بھی کہا کہ حضرت عائشہ بیان کرتی تھیں کہ واللہ جس شخص سے مجھے متہم کیا گیا تھا یعنی صفوان بن معطل وہ ان باتوں کو سن کر تعجب کرتا اور سبحان اللہ کہتا اور کہتا اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے تو کبھی کسی عورت کا سر بھی نہیں کھولا (جماع کیسا) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں اس کے بعد وہ (صفوان) اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے۔
اگر آپ ملحدین کے اعتراض پر غور کریں تو ان کی پوسٹ میں موجود اعتراضات اور ان کے جوابات درج ذیل ہیں
1-آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس تہمت کا انکار کیوں نہیں کیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا اقرار کیا نہ اس کا انکار کیا۔کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر تھے اور پیغمبر کبھی بھی اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتا جیسا کہ قرآن میں ہے
وما ینطق عن الہوٰی
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بشر تھے اور پیغمبر اور پیغمبر و بشری دونوں کا تقاضا تھا کہ جب اس بات کے اقرار و انکار دونوں کے کوئ عینی گواہ موجود نہیں تھے تو خاموشی ہی اختیار کی جاتی۔بجائے اس کے اس بہتان پر یقین کر کے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو طلاق دی جاتی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی وہ سکوت تھا اس معاملے میں جو قرآن کی آیات برات نازل ہونے کا سبب بنا جس میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو اس بہتان  سے پاک قرار دیا گیا۔
2۔ اور اعتراض یہ کیا گیا کہ آیات نازل ہونے کا ڈرامہ رچایا نعوذ بااللہ۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی زبان مبارک سے کچھ نہیں کہا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہنے کا حکم نہیں دیا گیا۔بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کا ایک لفظ بھی اپنی طرف سے نہیں لکھا نہ اس میں کسی کی مدد لی۔آج تک مستشرقین و ملحدین آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پاک پر اعتراضات کرتے آئے ہیں لیکن وہ یہ ثابت نہیں کر سکے کہ یہ قرآن نعوذ بااللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تخلیق کیا یا کہیں سے اخذ کیا۔قرآن پر ان کے سب الزامات آج تک جھوٹ ثابت ہوئے ہیں اور یہ بھی اس طرح کا جھوٹ ہے کہ یہ آیات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نعوذ بااللہ خود تخلیق کی۔
3۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مسلمان کو نہیں ڈانٹا بلکہ خود قرآن پاک میں ایسے لوگوں کو تنبیہ کی گئ جن لوگوں نے اس واقعے کو سچ سمجھ لیا تھا۔اور جن لوگوں نے یہ واقعہ سچ سمجھ لیا تھا ان کا یہ سچ سمجھنا بھی محض گمان کی وجہ سے تھا اور ان میں سے کوئ بھی اس واقعے کا عینی شاہد نہیں تھا۔

4۔۔۔یہ اعتراض کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بہتان کو سچ سمجھا  صریح جھوٹ ہے۔چونکہ اس واقعے کے عینی شاہد کوئ نہیں تھے لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر خاموشی اختیار فرمائ۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اذیت پہنچنے کا الزام غلط ہے۔حدیث میں واضح طور پر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ان کا حال پوچھتے رہے کہ کیسی ہو۔اب یہ کونسی اذیت تھی جس میں اذیت پہنچانے والا روزانہ خیریت دریافت کرتا ہے۔اگر کوئ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس معاملے میں خاموشی کو اذیت سمجھتا ہے تو وہ غلط ہے کیونکہ بغیر گواہوں کے کسی بھی بہتان کے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار فرمائ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل بالکل ٹھیک تھا۔بلکہ بعد میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم کی طرف سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی پاکدامنی و فضیلت بیان کرنے کے بعد عبداللہ بن ابی کو قتل کرنے کا بھی ارادہ کیا۔اب یہ کونسی اذیت ہے کہ اذیت دینے والا بہتان لگانے والے کو قتل کرنے کا حکم کر رہا ہے۔
5۔۔ملحد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو طلاق دینے کے لیے مشورہ کیا۔حدیث میں کہیں بھی طلاق کا لفظ ذکر نہیں۔صرف معاملے و الزام کی نوعیت کے بارے میں مشورہ کیا گیا کہ صحابہ کرام حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی پاکدامنی کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔
آخری بات یہ کہ اگر واقعی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو اذیت دی تو بعد میں خود ہی نعوذ بااللہ ان کی برات اور الزام سے آزادی کے لیے آیات گھڑ لین نعوذ بااللہ۔یہ کونسی اذیت تھی کہ اذیت دینے والا نعوذ بااللہ خود ہی آیات گھڑ کر دوسرے کا دفاع کر رہا ہے۔
ساری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ ملحد نے  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی کو اذیت کے طور پر بیان کیا اور پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی الزام کے سرغنے عبداللہ بن ابی کو قتل کرنے کا حکم دیا تو اس کو حقیقت چھپانے کا ڈرامہ بیان کیا اور جب دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیات نازل ہوئ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی برات پر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دوسرا الزام لگا دیا کہ یہ آیات نعوذ بااللہ خود بخود گھڑ لی۔یہ پورا واقعہ ملحد کے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے۔وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت و کردار کو مشکوک بنانے کے لیے کبھی کس طرف بھاگتا ہے تو کبھی کس طرف۔اور حقیقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی شخصیت واقعے اور حدیث کے مکمل تجزیے کے بعد اس الزام سے سو فیصد پاک نظر آتی ہے۔
تحریر۔۔ڈاکٹر احید حسن
https://m.facebook.com/groups/891915894248140?view=permalink&id=1040458489393879
مکمل تحریر >>

فلسفہ زمان و مکان، واجب الوجود، ممکن الوجوداور کوانٹم فزکس پر ایک ملحدہ کے اعتراض کا جواب

فلسفہ زمان و مکان، واجب الوجود، ممکن الوجوداور کوانٹم فزکس پر ایک ملحدہ کے اعتراض کا جواب
/////////////////////////////////////////
واجب الوجود۔۔۔۔!
واجب الوجود اس چیز کو کہتے ہیں جس کا وجود اس کا زاتی ہو اور اس کا عدم وجود محال ہو۔ ہر وہ چیز جو پہلے موجود نہ تھی اسے بعد میں وجود حاصل ہوا اس کا وجود کسی علت کا محتاج ہو گا کیونکہ وہ پہلے نہیں تھا بعد میں موجود ہوا۔ اس لیے کائنات جو حادث ہے ایک وقت پر پیدا ہوئ ہے وہ ممکن الوجود ہو گی واجب الوجود نہیں ہو سکتی۔
مسلمانوں کے نزدیک یہ واجب الوجود خدا ہے جس کا وجود کسی چیز کا محتاج نہیں اور وہ ہمیشہ سے ہے اور اس کا وجود زاتی ۔ یعنی اس کا وجود بالذات ثابت ہے۔ جبکہ باقی تمام چیزیں ممکن الوجود ہیں جن کا وجود بالغیر اور واجب الوجود خدا کی طرف سے عطا کردہ ہے۔
مگر اس منطق میں مسلہ یہ ہے کہ اس سے ایک واجب الوجود چیز تو ثابت ہوتی ہے خدا ثابت نہیں ہوتا۔
۱۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واجب الوجود کوئ مادی وجود ہو؟
۲۔ یا کوئ اور علت ہو جو اب بھی ویسے ہی موجود ہو۔
۳۔ زمان و مکاں واجب الوجود ہو سکتے ہیں۔
زمان کے واجب الوجود ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اگر ہم زمان کو رفع کریں تو اس سے وجود لازم آۓ گا۔ اور جس کے رفع سے وجود لازم آۓ اس کا حد رفع ممکن نہ ہو گا۔  پس جس کا حد رفع ممکن نہ ہو وہ واجب الوجود ہو گا۔
اس لئیے زمان و مکان ہی واجب الوجود ہیں۔ جو ہمیشہ سے ہیں ان میں کوانٹم فلکچوایشنز نے کائنات کو پیدا کیا جو ممکن الوجود ہے۔
مسلمانوں کی اس بارے میں کیا راۓ ہے؟
/////////////////////////////////////////
جواب۔۔۔۔
جو وجود  یعنی خدا اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے  کیا وہ اپنے وجود کے لیے ایک جگہ پیدا نہیں کر سکتا؟اگر یہ وجود یعنی خدا نہ ہوتا تو اس کی پیدا کی گئ جگہ کیسے موجود ہوتی۔جگہ کا بیان وجود کے لیے ہوتا ہے۔جہاں کوئ وجود ہی نہ ہو وہ جگہ جگہ کیسے کہلائے گی۔پھر اب کیا مطلق و حتمی ہوا؟جگہ یا جگہ کا پیدا کرنے والا وجود یعنی خدا؟ظاہر ہے جس وجود کے بغیر جگہ کا بیان ممکن نہیں اور جس کے وجود کے لیے اس کی موجودگی کے مکان کو جگہ کا نام دیا جاتا ہے وہ وجود ہی حتمی ہوگا نہ کہ جگہ جس کی اس وجود کے بغیر کوئ حیثیت نہیں۔اگر یہ وجود نہ ہوتا تو جگہ تھی ہی بے معنی ۔جگہ کا تو لفظ ہی ایک موجود یعنی خدا کا محتاج ہے۔اور اگر یہ وجود نہ ہوتا تو جگہ یعنی کائنات کیسے پیدا ہوتی۔ظاہر ہوا کہ جگہ حتمی یا مطلق نہیں بلکہ جگہ کا وجود بذات خود ایک وجود یعنی خدا کا محتاج ہے جس کی موجودگی سے اس مقام یعنی کائنات کو جگہ کا نام دیا گیا۔جگہ بذات خود کچھ نہیں بلکہ یہ ایک وجود یعنی خدا کی پیدا کردہ اور اپنے بیان کے لیے اس کے وجود کی محتاج ہے۔
کیا آپ نے آئن سٹائن کا نظریہ اضافت یا تھیوری آف ریلیٹویٹی پڑھی ہے؟اس کے مطابق زمان و مکان حتمی یا absolute نہیں بلکہ فرضی یا relative ہیں جو محض ایک وجود کے بیان اور اس کی کائنات میں سرگرمی کو استعمال کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔اب پہلے وجود آیا یعنی خدا پھر اس خدا کے بیان اور اس کی تخلیق کردہ کائنات کے لیے مکان یعنی space اور اس کی اس کائنات میں سرگرمی کو ظاہر کرنے کے لیے زمان یعنی وقت کا لفظ استعمال کیا گیا۔اب اگر یہ وجود یعنی خدا نہ ہوتا تو زمان و مکان یعنی ٹائم اینڈ سپیس بھی نہ ہوتے۔کیونکہ یہ تو محض ایک وجود کے بیان کے الفاظ ہیں۔بذات خود ان کا بیان ایک وجود کا محتاج ہے۔لہذا جو پہلے آیا جس کی موجودگی اس زمان و مکان کے بیان کی وجہ بنی وہی خدا حتمی و مطلق ہے نہ کہ یہ زمان و مکان۔
جب وجود یعنی خدا نہ ہو تو زمان یعنی وقت یا ٹائم رفع ہوگا کیونکہ یہ زمان یا وقت تو محض ایک وجود یعنی خدا کی کائنات میں سرگرمی کو بیان کرتا ہے اور اس وجود کے نہ ہونے سے مکان بھی رفع ہوگا کیونکہ یہ مکان یا جگہ محض ایک موجود کی موجودگی کا بیان کرتا ہے۔یہ الفاظ یعنی زمان و مکان بذات خود اپنے بیان کے لیے ایک موجود کے محتاج ہیں۔لہذا وہ وجود یعنی خدا ہی واجب الوجود ہوا نہ کہ زمان و مکان جو کہ محض اس وجود کے بیان کے لیے ہیں اور اس وجود یعنی خدا کے بغیر وہ ہوتے ہی نہ۔خود آئن سٹائن کی تھیوری آف ریلیٹویٹی کا نظریہ اضافت کے مطابق زمان و مکان یعنی ٹائم اینڈ سپیس اضافہ و فرضی ہیں لیکن حتمی و مطلق یعنی absolute نہیں۔پھر زمان و مکان کیسے واجب الوجود ہوگئے جب کہ فلسفہ سے زیادہ مستند علم یعنی فزکس خود تصدیق کر رہی ہے کہ زمان و مکان یا ٹائم اینڈ سپیس اضافی یا relative ہیں۔
کیا واجب الوجود کے مادی وجود ہونے سے اس کے وجود یا اس کی قدرت کا انکار ہوجائے گا؟بالکل نہیں۔wave particle duality  کوانٹم فزکس کا مشہور تصور ہے جس کے مطابق تمام اجسام موجی یا کوانٹم اور مادی دونوں خصوصیات رکھتے ہیں۔اور کسی ایک خصوصیت کے بیان سے دوسری خصوصیت کا انکار بالکل نہیں سامنے آتا۔دونوں پہلو کسی بھی وجود کے بیان کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔میں نہیں کہتا سائنس کہتی ہے۔خدا قادر و مطلق ہے۔وہ اپنے لیے جو وجود بھی پسند کرے اس سے کسی طرح اس کی خدائ کا انکار سامنے نہیں آتا۔کیونکہ جب سائنس میں ہم کوانٹم پہلو لیں یا پارٹیکل پہلو کسی طرح بھی اس وجود کی خصوصیات کا انکار سامنے نہیں آتا۔
کونسی اور علت۔علت خدا کو ماننے والے سب لوگوں کے مطابق خدا ہی ہے۔یہ اور بات ہے کہ مختلف مذاہب میں خدا کا تصور مختلف ہے۔لیکن جس علت کو ہم خدا کہیں گے اس میں خدائ قدرت کا ثبوت بھی لازمی دینا ہوگا ورنہ وہ علت خدا نہیں کہلائے گی۔میں ثابت کر سکتا ہوں کہ میرا خدا اس کائنات کی بنیادی علت کی سب خصوصیات رکھتا ہے۔لہذا وہی ہی اس کائنات کی علت ہے اور کوئ نہیں۔
 مکان حتمی نہیں ہے یہ محض ایک وجود کے مقام کے بیان کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ہے۔خود سائنس کے مطابق مکان اسپیس حتمی نہیں۔اب جو حتمی ہے ہی نہیں وہ وجود بالزات کیسے ہوسکتا ہے۔
ملحد نے کوانٹم ۔سٹیٹ کو ایک جگہ تصور کیا جب کہ کوانٹم سٹیٹ ایک مکان یا جگہ نہیں بلکہ کسی کوانٹم سسٹم کی حالت کا نام ہے جسمیں وہ موجود ہوتا ہے۔یعنی یہ ایک condition کس نام ہے اور کنڈیشن  سپیس نہیں ہوتی بلکہ کسی نظام کی حالت ہوتی ہے لیکن ملحد نے کنڈیشن کو سٹیٹ بنا دیا جو کہ غلط ہے۔کوانٹم سٹیٹ ایک پیمائش ہے ایک سپیس نہیں اور یہ کوانٹم فیلڈ کی پیمائش ہے جس میں توانائ موجود ہے اور یہ توانائ مادے کے مساوی ہے۔لہذا ایک حالت کو ایک مکان نہیں کہا جا سکتا۔یہ تعریف پڑھیں

the condition in which a physical system exists, usually described by a wave function or a set of quantum numbers.
یہ تعریف پڑھیں
In the mathematical formulation of quantum mechanics, pure quantum states correspond to vectors in a Hilbert space, while each observable quantity (such as the energy or momentum of a particle) is associated with a mathematical operator
یہ تعریف بھی ایک کوانٹم نظام کا ویکتر کے ذریعے بیان بتا رہی ہے۔یہ پڑھیں
any of various states of a physical system (such as an electron) that are specified by particular values of attributes  .
یہ بذات خود ایک فزیکل سسٹم کا بیان ہے۔
ملحدہ نے کہاکہ اس،کو زیرو پوائنٹ فیلڈ بھی کہتے ہیں۔یہ بھی غلط کہا اس نے۔زیرو پوائنٹ فیلڈ کوانٹم سٹیٹ سے باکل الگ ہے۔اس کی تعریف یہ ہے

Zero-point energy (ZPE) or ground state energy is the lowest possible energy that a quantum mechanical system may have, i.e. it is the energy of the system's ground state.
یہ کسی نظام کی توانائ کی کم سے کم سطح ہے۔اور اس نظام کی جو حالت یا پیمائش ہوگی اس کو کوانٹم سٹیٹ کہا جائے گا۔ملحدہ نے ساری کوانٹم فزکس غلط بیان کی۔اور زیرو پوائنٹ فیلڈ میں بھی مکمل سپیس نہیں ہوتا۔یہ زیرو پوائنٹ  فیلڈ زیرو پوائنٹ انرجی رکھتا ہے جو کی کوانٹم انرجی کی ایک قسم ہے جس میں سے ہمیشہ ورچول پارٹیکل بنتے رہتے ہیں اور یہاں بھی خلا نہیں۔ملحدہ کی یہ وضاحت بھی غلط ہے۔
اور میں نے اوپر بیان کردیا کہ نظریہ اضافت کے مطابق زمان و مکان حتمی نہیں ہیں اور جو حتمی نہ ہو وہ وجود بالذات کیسے ہوسکتا ہے۔آپ کا سارا فلسفہ غلط ہے۔
اور ویکیوم سٹیٹ بھی مکمل ویکیوم نہیں۔خود سائنس کہتی ہے کہ اسے ویکیوم کہنا غلط یے۔یہ پڑھیں
In quantum field theory, the vacuum state (also called the vacuum) is the quantum state with the lowest possible energy. Generally, it contains no physical particles. Zero-point field is sometimes used as a synonym for the vacuum state of an individual quantized field.

According to present-day understanding of what is called the vacuum state or the quantum vacuum, it is "by no means a simple empty space"
میں نے نہیں کہا کہ وقت حرکت ہے۔میں نے تو حرکت کا لفظ ہی استعمال نہیں کیا۔یہاں آپ پھر غلطی کر رہی ہیں۔وقت کی تعریف کیا ہے۔یہ پڑھیں

the indefinite continued progress of existence and events in the past, present, and future regarded as a whole.
یہ کسی وجود کے لامحدود وجود کے قدیم ہونے اور ماضی حال مستقبل کے واقعات کا بیان ہے۔اب یہ بھی اپنے بیان کے لیے ایک وجور کے بیان دیے گئے واقعات و وجود پر انحصار کر رہا ہے۔چونکہ یہ اور چیزپر انحصار کر رہا ہے۔اس لیے یہ بھی حتمی اور وجود بالزات نہیں۔نظریہ اضافت بھی یہی کہتا ہے۔
جب سائنس خود مانتی ہے کہ کائنات کی ہر چیز مادی و غیر مادی خصوصیات رکھتی ہے تو اب اگر کسی چیز کو مادی یا غیر مادی جو بھی تسلیم کر لیا جائے اس سے اس چیز کا وجود کس طرح غلط ثابت ہوتا ہے۔اب خدا جو ہر وجود کاس خالق ہے اس کی مرضی جس وجود مینی بھی رہے اس سے اس کا انکار کہاں سامنے آتا ہے۔
وہ علت خدا ہے اور جو سب اشیاء کو مادی و غیر مادی خصوصیات دے سکتا ہے خود اگر دونوں خصوصیات رکھ لے تو کہاں اس کا انکار ہوتا ہے۔وہ جو بھی وجود رکھے وہ علت خدا ہی ہے۔
میں نہیں کہتا کہ خدا مادی ہے لیکن وہ جس وجود میں چاہے آسکتا ہے۔وہ قادر ہے خود سائنس مان رہی ہے کہ کائنات کی ہر چیز کے دو پہلو ہیں۔مادی و غیر مادی۔کسی صورت خدا کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
 ویکیوم انرجی بذات خود خدا کی ایک طاقت اور اس کی قدرت ہے تو ثابت ہوجائے گا کہ یہ جس خدا کے وجود کی نشانی ہے۔ وہی خدا ہی وجود بالزات ہے جس کی قدرت کی یہ علامت اور اس کے وجود کی دلیل ہے۔جی بتائے۔پھر اور بات نہیں چلے گی۔
ویکیوم انرجی بذات خود خدا کے وجود کی دلیل اور اس کی قدرت کی ایک نشانی ہے۔لہذا ثابت ہوا کہ وہ خدا ہی موجود بالذات ہے جس کی ایک قدرت اور اس کا اظہار یہ ویکیوم انرجی ہے۔تفصیل کے لیے میرا ویکیوم انرجی پر تفصیلی مضمون پڑھیں
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=396218204055311&id=100010014035463
فلسفہ اسلامی میں اثبات وجود خدا کے لیے بہت سی عقلی دلیلیں دی جاتی ہیں۔۔ جن میں سے اک انتہائی اہم دلیل برہان امکان ووجوب کے نام سے ہے۔ اس دلیل کو بو علی سینا نے اپنی کتاب الاشارات وال تنبیھات کی نمط رابع میں ذکر کیا ہے اور اس کے برہان صدیقین میں سے ہونے کا دعوی کیا ہے۔
اس دلیل کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں صرف اور صرف "وجود" میں غور اور فکر کے بعد خدا کے وجود کو ثابت کیا گیا ہے۔
اس دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ:
اگر ہم اس کائنات کی تمام موجودات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان میں غور وفکر کریں
تو یہ موجودات اپنے وجود کے حوالے سے (ان میں صرف دو ہی احتمال ہو سکتے ہیں)
1۔ یا تو وجود ان کے لیے ضروری ہے۔ اس طرح سے کہ وجود کو ان سے سلب نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو واجب الوجودکہا جاتا ہے۔
یا
2۔ وہ موجود تو ہیں لیکن وجود ان کے لیے ضروری نہیں، بلکہ وجود کو ان سے سلب بھی کیا جا سکتا ہے۔ جیسے انسان کا وجود۔ اس کو ممکن الوجود کہا جاتا ہے۔
ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ موجود ہو بھی اور وجود اس کے لیے ممتنع ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو موجود ہی نہ ہوتا۔

پس اگر کسی واجب الوجود کو مانتا ہے تو فبہا۔ کہ وہ خداوند متعال کی ذات ہے۔
اور اگر نہیں مانتا۔ تو سوال یہ ہے کہ یہ ممکنات کیسے وجود میں آئے؟
واجب الوجود  یعنی جس کا وجود باقی تمام موجودات کے لیے واجب ہو،جو تمام موجودات کا خالق ہو جس کے بغیر کوئ وجود ممکن نہ ہو یعنی وہ سب ممکن الوجود کا خالق ہو تو اب جس کا وجود سب موجودات کی تخلیق کے لیے لازم ہے وہی خدا  ہی واجب الوجود ہوا نہ کہ کوئ اور۔یہ بات نو علی سینا ثابت کر چکے ہیں۔
باقی جو موجود ہے لیکن عدم اور فنا یا موت سے آزاد نہیں بلکہ اس کی ایک تخلیق ہے جو ہمیشہ سے موجود نہیں تھا بلکہ واجب الوجود خدا کی طرف سے وجود میں لایا گیا وہ ممکن الوجود ہے۔اس کی ذات میں عدم اور وجود دونوں ممکن ہیں۔لہذا جو وجہ موجودگی رکھتا ہو،ایک ابتدا رکھتا ہو،عدم یعنی فنا اور موت سے آزاد نہ ہو وہ ممکن الوجود ہوگا۔جو اس ممکن الوجود کی وجہ ہوگا،اس کے وجود اور اس کے عدم یعنی فنا کی وجہ ہوگا وہ واجب الوجود خدا  ہے۔یہ موجود ایک بیرونی طاقت یعنی واجب الوجود کا اپنی تخلیق و وجود اور بقا کے لیے محتاج ہے۔یہ وجود عدم و وجود کے درمیان ایک مساوی حالت میں ہے اور ایسے واجب الوجود کا محتاج ہے جو اس کو عدم و وجود کی مساوی کیفیت سے نکال کر اسے وجود بخشے۔
اب اس سارے فلسفے کے مطابق جو خود بخود موجود،اپنے وجود کے لیے کسی وجود کے اثر سے آزاد،کسی وجود کی طرف سے فنا کے خطرے سے آزاد،سب موجودات کی وجہ تخلیق اور ان کے وجود کے لیے ایک لازمی وجود تو وہ وجود بالذات خدا ہی ہوسکتا ہے اور کوئ نہیں۔
دوسرے لفظوں میں واجب الوجود وجود مطلق ہے جس کے بغیر سب موجودات یعنی تمام ممکن الوجود بے وجود ہوتے،جو وجود ان کی وجہ بقا ہے،جو ان کی وجہ عدم ہے تو وہ وجود مطلق یا وجود بالذات خدا ہی ہے اور کوئ نہیں۔
تحریر۔۔۔ڈاکٹر احید حسن
https://m.facebook.com/groups/891915894248140?view=permalink&id=1046802335426161

دین سے دوری اور سب حرام کاموں اور حرام اشیاء کے استعمال کے یورپی اور غیر مسلم معاشرہ کیوں ترقی کر رہا ہے؟کیا مذہب ترقی کے لیے لازمی نہیں ہے؟اگر لازمی ہے تو کافر ترقی پر کیوں اور مسلمان زوال میں کیوں؟
جہاں   تک شراب ’جوئے ’زنا ’خنزیر اور سور وغیرہ کے حرام ہونے کی وجہ اور سبب  کا تعلق ہے تو اس بارے میں دوباتوں  کا جاننا نہایت ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ  ہر انسان کے لئے یہ معلوم کرنا نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی ممکن ہے کہ فلاں چیز کیوں حرام ٹھہرائی گئی اور کس وجہ سے اس کا استعمال کرنا ممنوع ٹھہرایا گیا ۔ کیونکہ جو چیزیں حرام ٹھہرائی  گئی ہیں  ان کی خباثتیں یا نقصانات کا معلوم کرلینا یہ انسان کے بس میں نہیں ہوتا ایک ہی چیز کا نقصان ایک آدمی اپنے علم اور تجربے سے معلوم کرلیتا ہے جب کہ دوسرے کے پاس یہ دونوں چیزیں نہیں ہوتیں اور پھر ایک حرام کردہ چیز کی خباثت ایک زمانے میں ظاہر نہیں ہوتی جب کہ دوسرے زمانے میں وہ ظاہر ہوجاتی ہے۔
مثلاً سور کے گوشت کی مثال ہی لیجئے کہ جب یہ حرام کیا گیا تو اس وقت شاید ہی کسی کو  اس کی حرمت کا سبب یا علت معلوم تھی لیکن سائنسی ترقی کے ساتھ ساتھ انکشافات ہوتے گئے کہ اس میں ایسے مہلک جراثیم اور کیڑے ہوتے ہیں جو بے شمار بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں بہرحال کوئی انکشاف ہو یا نہ ہو مسلمان اس عقیدے پر قائم رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خالق کائنات اور حکیم و خبیر ہے اس لئے یہ اسی کا حق ہے کہ جس چیز کو چاہے حلال ٹھہرائے اور جسے چاہے حرام قرار دے دے اس پر اعتراض کرنے یا اس کی نافرمانی کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود اہل علم کا یہ فرض ہے کہ وہ خلق خدا کے سامنے ان محرمات کے نقصانات  اپنے علم اور تجربات کی روشنی میں واضح کریں تا کہ اسلام کی سچائی اور حقانیت پر لوگوں کا یقین اور زیادہ پختہ ہو۔
دوسری بات یہ بھی ہے کہ جب ہرانسان کے بس میں ایک چیز کی اصلیت یا ماہیت معلوم کرنا نہیں ہے تو پھر آخر اسے کس چیز پر انحصار کرناہوگا؟ ظاہر ہے وہ صرف اور صرف وحی الہٰی ہے مگر ایک شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اس کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی سچی کتاب ہے اور محمد ﷺ اللہ کے سچے نبی و رسول ہیں تو پھر اسے چیزوں کی حلت و حرمت کا اختیار اللہ وحدہ لاشریک ہی کو  دینا ہوگا ’کسی عالم’درویش ’ بادشاہ یا حکمران کو یہ اختیار دینے کا معنی یہ ہوگا کہ اس کا خدا اور قرآن پر ایمان نہیں  ہے۔ لہٰذا اگر کسی شخص کو کسی چیز کی حرمت و حلت کے بارے میں شک ہے تو پہلے اسے قرآن و اسلام کے بارے میں اپنے عقیدے کا جائزہ لینا چاہئے کہ اگر ان کی سچائی پر اس کا ایمان ہے  تو پھر خالق کائنات کے ہر حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑے گا چاہے  اس کی حکمت یا فلسفہ اس کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے (یہ ضروری نہیں)
شراب: اب شراب کو ہی لیجئے اس کی حرمت کی سب سے بڑی وجہ اور سبب تو یہ  ہے کہ اسے اس ذات نے حرام ٹھہرایا ہے جو چیزوں کا پیدا کرنے والا اور ان کی خوبیوں اور مضرتوں کا صحیح علم  رکھنے والا ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ اسے کیوں حرام  ٹھہرایا ؟ا س کا کیا نقصان ہے؟ اس بارے میں موجودہ دور میں یہ بات تقریباً متفق علیہ ہوچکی ہے کہ شراب اور دوسری نشہ آور چیزوں کے بے شمار طبی اور معاشرتی نقصانات ہیں جس سے انسان کی صحت اور اخلاق دونوں پر اثر پڑتا ہے اور آج ان کی بہتات اور کثرت استعمال دنیا بھر کے لئے مسئلہ بن چکا ہے۔ رہی یہ بات کہ شراب کے کچھ فوائد بھی ہیں تو قرآن  نے اس کی تصریح کی ہے کہ اس کے نقصانات منافع کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں لہٰذا یہ حرام ہے اور جدید تحقیق نے اس کے نقصانات واضح کردیئے ہیں۔
جوا: قرآن نے شراب کے ساتھ ہی جوئے کاذکر بھی کیا ہے کیونکہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ان میں سے ایک بیماری کا شکار ہونے والا دوسری میں بھی مبتلا ہوجاتا ہے۔ ہارے ہوئے جواری اکثر شراب کے ذریعے ہی عارضی اور مصنوعی تسکین حاصل کرنے کی کوشش کرتےہیں۔ جوئے کے نقصانات فرد اور معاشرے دونوں کے لئے بالکل واضح ہیں جنہیں  سمجھنے کے لئے کسی لمبے چوڑے فلسفے کی ضرورت نہیں اس کھیل میں  محنت اور وقت دونوں کی بربادی ہے ۔ جواریوں  کے درمیان بغض و عداوت اکثر قتل وغارت تک پہنچتی  ہے اور اس مرض میں مبتلا عیاش لوگ خاندان کا کاروبار اور معاشرتی روایات سب کو تباہ کرنے پر تیاہ ہوجاتے ہیں۔ایسے لوگ محض آرزوؤں کے سہارے زندہ رہتے ہیں ۔ محنت اور اسباب کی تلاش کا جذبہ ختم ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگ صرف بازی جیتنے کے لئے بسا اوقات  دین ’عزت اور وطن کو بھی داؤ پر لگا دیتےہیں اسی لئے قرآن نے انہیں رجس من عمل الشیطان کہا کہ گندے شیطان کام ہیں ’ان سے بچ کررہو۔
خنزیر: جدید طب نے خنزیر کے گوشت کے نقصانات واضح کردیئے ہیں کہ اس کا کھانا ہر خطے خصوصاً گرم ممالک میں انتہائی نقصان دہ ہے ۔ بعض سائنس دانوں نے یہ  بھی کہا ہے کہ اس کے کھانے سے جسم میں خطرناک قسم کے کیڑے پیدا ہوجاتےہیں۔ مسلم ماہرین نے جو تحقیق کی ہے اس کے مطابق خنزیر کے گوشت کے زیادہ استعمال سے غیرت کم ہوجاتی ہے ۔ بعض لوگ یہ اعتراض کرتےہیں کہ اگر اتنا ہی نقصان دہ ہے تو انگریز اور دوسرے غیر مسلم اتنی کثرت سے استعمال کیوں کرتےہیں۔ تو یہ کوئی ضروری نہیں کہ مغربی ممالک کے لوگ یا دوسرے غیر مسلم ہر اس چیز سے دور رہتے ہوں جو نقصان دہ ہو۔ سگریٹ کے استعمال سے جو خطرناک بیماریاں جنم لے رہی ہیں اور سرطان کے اسباب میں بھی اب سگریٹ نوشی  کو شامل کرلیا گیا ہے۔ کیا اس کے بعد یورپ والوں نے سگریٹ نوشی چھوڑدی ہے؟ اس لئے یہ کوئی دلیل نہیں کہ شراب اور خنزیر کے نقصان  سے یہ بچے ہوئے ہیں بلکہ ان ساری بیماریوں میں مبتلا ہونے کے باوجود یہ ان گند گیوں کے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں اور یہی چیز ان  کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گی۔
زنا: اسلام دین فطرت ہے اس لئے ا س نے فطری  خواہشات کی بھی حدود مقرر کردی ہیں۔ اگر انسان کو جنسی خواہشات کے لئے آزاد چھوڑدیا جائے اور زنا کوجائز قرار دے دیا جائے تو خاندانی اور عائلی زندگی تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔ حسب و نسب اور حقوق و فرائض کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ اس لئے اسلام نے نہ تو یہ کیا کہ اس کو اس طرح آزاد چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے جانوروں کی طرح اپنی خواہش پوری کرلے اور کوئی دینی یا  اخلاقی رکاوٹ بھی اس کے سامنے  نہ ہو اور نہ ہی اس سے ٹکرانے کی اجازت دی کہ گوشہ نشینی اختیار کرلی جائے اور شادی بیاہ اور دوسری دنیاوی ذمہ داریوں سے کنارہ کشی کرکے رہبانیت اختیار کرلی جائے ۔ بلکہ اسلام نے اعتدال کی راہ اختیار کی ہے کہ کچھ حدود مقرر کی ہیں جن کے اندر رہ کر نکاح کی شکل میں خواہش پورا کرنے کی اجازت دی اور ان حدود سے باہر زنا کی شکل کو حرام و بے غیرتی قرار دیا اور صرف اسلام ہی کا نہیں بلکہ تمام آسمانی مذاہب ہا یہی موقف ہے۔
اب جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ جس قوم میں یہ بیماریاں آجائیں وہ ترقی کرسکتی ہے یا نہیں اور یورپ والوں میں یہ بیماریان پائی بھی جاتی ہیں پھر بھی وہ ترقی کررہے ہیں؟
یہ بڑا نازک سوال ہے اور اکثر لوگ اس شبہ میں مبتلا ہوکر دھوکہ کھاجاتےہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ ترقی صرف مادی وسائل کی بہتات کا نام نہیں کہ جس قوم کے پاس ہتھیاروں یا دنیاوی اسباب کی بہتات ہو  وہ ترقی یافتہ ہے ہمارے نزدیک ترقی یافتہ وہ قوم ہے جس نے مادی ترقی کے ساتھ ساتھ  اخلاقی اور روحانی قدروں کو بھی اجاگر  کیا ہو اور ان کا بھی تحفظ کررہےہوں۔جیسا کہ اسلام  کے روشن دور کی مثالیں ہمارے سامنے موجو ہیں۔ آج جنہیں آپ ترقی یافتہ سمجھتے ہیں وہ اخلاقی اور روحانی طور پر اس قدر کھوکھلے  ہوچکے ہیں کہ اگر بداخلاقیوں  اور بد کردار یوں کی رفتار یہی  رہی تو اہل مغرب  بہت جلد انہتائی بھیانک انجام  سے دوچار ہوں گے۔ آپ ہی بتائیں کہ نیو یارک جو دنیا کے معیار  کےمطابق مہذب ترین اور سب سے  ترقی یافتہ ملک کا مرکزی شہر ہےوہاں چند گھنٹوں کے لئے اگر بجلی فیل ہوجائے تو  حیوانیت و درندگی کس طرح ناچتی ہے نہ کسی کی عزت محفوظ رہتی ہے نہ مال ایک رات میں چوریوں اور ڈاکوں کا شمار کرکے بتائیں کہ اسی کا نام ترقی ہے؟جبکہ زنا شراب اور جوئے کی وجہ سے وہاں جتنے قتل  اور فسادات ہورہے ہیں وہ اس سے الگ ہیں۔ ہتھیاروں کی ترقی کا انجام بھی برا نظر آتا ہے  شاید  یہ کسی بدحواسی میں آکر اپنے ہی بنائے ہوئے ہتھیاروں سے تباہ برباد ہو جائیں اور جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو اکثر ایسے ہی ہوتا ہے۔ ہاں آپ یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ دنیاوی اور مادی لحاظ سے ان لوگوں کو مسلمانوں پر فوقیت  حاصل  ہے لیکن ایسا کیوں ہے؟ یہ بھی قابل غور بات ہے ۔ یہ اس لئے ہے کہ مسلمانوں سے اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ غالب رہیں گے اور اللہ تعالیٰ کفار کے مقابلے میں ان کی ہمیشہ مددکرے گا اورر اس کی تکمیل اسی شکل میں ہوگی جب مسلمان اللہ سے کئے ہوئے وعدوں کو پورا  کریں اور اللہ نے  بارہا یہ وعدہ پورا کیا کہ جب  مسلمانوں نے اس کی سچی اطاعت کی تو پھر  وسائل کی کمی کے باوجود انہیں غالب و کامیاب کیا۔ اور اگر دونوں شرابی دونوں زانی یعنی کفار بھی عیاش اور مسلمان بھی عیاش دونوں بد عمل و بد کردار  ہوجائیں تو  پھر اللہ کے نزدیک دونوں برابر ہیں۔ جو تعداد اور مادی قوت میں زیادہ ہوگا وہ دوسرے  پر غالب آجائے گا۔موجودہ صورت حال ایسی ہی کہ  کفار دشمن اسلام   بھی ہیں’زانی و شرابی  بھی ہیں  مگر پھر مسلمانوں پر غالب اور مادی لحاظ سے ان سے آگے ہیں کیونکہ عیاش ہونے کےباوجود وہ محنت بھی کرتےہیں اور زندہ رہنے کے کچھ اصولوں پر کاربند بھی ہیں۔ ان کے مقابلے میں مسلمان  اپنے دین سے باغی بھی ہیں۔ زناو شراب کو بھی جائز ٹھہرائے ہوئے ہیں اللہ کے قانون کو اپنے ملکوں  سے دیس نکالا بھی دیا ہوا ہے اور ان عیاشیوں اور بغاوتوں  پر اضافہ یہ کہ محنت بھی نہیں کرتے اور  معاملات و اخلاق میں کوئی اصول و ضابطہ بھی نہیں تو ظاہر ہے یہ دوسروں سے پیچھے ہی رہیں گے بلکہ اللہ سے عہد کرنے کے بعد پھر یہ بغاوت  و سرکشی  زیادہ  ناراضگی کا سبب بنتی ہے ۔ اللہ کی اطاعت اور اس کی فرماں برداری ہی مسلمانوں کی امتیازی شان ہے۔ یہ نہ رہی تو پھر کفار اپنی محنت و قوت سے ان پر غالب آسکتے ہیں۔ اس بحث کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کفار کےلئے شراب و زنا یا دوسرے گناہ مفید ہیں اور نقصان دہ نہیں اور ان کی ترقی میں رکاوٹ نہیں۔ بلکہ یہاں   بھی کچھ خدائی قوانین وضابطے ہیں جنہیں قرآن بیان کرتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔
جو کوئی دنیا کی زندگی اور اس کی شان حاصل کرنے کےلئے کوشش کرتا ہے تو ہم اس کو کوشش کے صلے میں پوری پوری عطا کرتےہیں کسی قسم کی کمی نہیں چھوڑتے مگر  صرف دنیا کے طالبو ں کے لئے آخرت میں سوائے جہنم  کی آگ کے اور کچھ نہیں ہوگا۔ (ھود:۱۵۔۱۶)
اب اس سے واضح ہوگیا کہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ دنیا کے حصول کی خاطر محبت کرنے والوں کو ان کی محنت کا پورا پورا صلہ عطا کرتا ہے۔ لیکن اس ساری ترقی یا قوت کے باوجود  کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ مسلسل نافرمانیوں اور سرکشیوں میں رہنےکی وجہ سے اچانک عذاب الہٰی کی لپیٹ میں آجاتےہیں ۔ ارشادربانی ہے
اور  کتنے ہی بستیوں والے جو اپنی معیشت کی ترقی پر اترانے لگ گئے ہم نے ان کو ایسے صفحہ ہستی سے مٹایا کہ اس جگہ بعد میں کوئی کم ہی آباد ہے اور بالاخر ہر چیز ہماری ملکیت میں آگئی ۔ (قصص: ۵۸)
اور بعض اوقات انہیں مہلت بھی دی جاتی ہے اور جوں جوں سرکشی و بغاوت میں  زیادہ ہوتے ہیں بظاہر وسائل  و اسباب  بھی کثرت سے دیئے جاتے ہیں اور پھر اچانک عذاب الہٰی کی گرفت میں آجاتے ہیں ۔ ارشاد ربانی ہے
جب وہ نصیحت  کی چیزوں کو بھول گئے تو ہم نے ہر چیز کے دروازے ان پر کھول دیئے۔ یہاں تک کہ وہ اکڑنے لگے تو اچانک ہم نے پکڑ لیا اور پھر ناکامی  کے سوا انہیں اور کچھ نہیں ملا۔(انعام:۴۴)
یہ اور اس طرح کی دوسری آیات میں قرآن نے قوموں کے عروج و زوال پر  بڑے پیارے انداز سے روشنی ڈالی ہے اگر آپ بغور ان کا مطالعہ کریں تو مسلمانوں کے زوال اور غیر مسلموں کی ظاہری چمک دمک کے اسباب باآسانی آپ کی سمجھ میں ا ٓجائیں گے۔
مختصر یہ کہ اخلاقی و معاشرتی برائیاں کسی قوم کے حق میں بھی بہتر نہیں ہوسکتیں چاہے وہ موجودہ مسلمانوں کی  طرح  کوئی پس ماندہ قوم ہو یا دنیا کی مادی قوتوں کی طرح ترقی یافتہ ۔ سلطنت روم کے عروج و زوال کی داستان کا مطالعہ کریں۔ بغداد کے عروج اور اندلس کی ترقی کودیکھیں اور پھر ان کی تباہی کےاسباب کا جائزہ لیں۔ دور نہ جایئے اپنے ہاں سلطنت مغلیہ کی تباہی اور زوال ہی کی تاریخ کامطالعہ کرلیں۔ ہر جگہ آپ کو قانون قدرت یکساں نظرآئے گا ۔ اسکے ضابطے اٹل ہیں۔ اس سے کوئی مستثنیٰ نہیں ۔ موجودہ بین الاقوا می صورت حال توہمارے یقین اور ایمان کو پختہ کررہی ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ترقی وقوت کے سہارے جینے والے شاید آپس میں ٹکرا کر پاش پاش ہوجائیں اور پھر خدا کسی دوسری قوم کو ان کی جگہ لا کربسائے۔
اس بات کا جاننا بھی ضروری ہے کہ اسلام ترقی کا ہرگز مخالف نہیں لیکن اسلام ترقی کے نام پر اخلاقی گراوٹ اور روحانی فساد کی اجازت بھی نہیں دیتا ۔ جولوگ یہ سمجھتےہیں کہ علماء یا  اسلامی قدریں ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں ترکی میں کاکمال اتاترک  نے ۱۹۲۴ء میں اپنے خیال سے عربی کا وجود مٹایا  اور ملا کر راستے سے ہٹایا یہ سمجھ کر کہ یہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ دین وملا کے ہٹ جانے کے بعد کیا وہاں واقعی ترقی ہوئی ہے ۔ ہوٹلوں سینماؤں میں تو ترقی نظر آئے گی لیکن آج تک وہاں سیاسی سکون اور معاشی ترقی نہیں ہوسکی۔ بلکہ وہ قوم آج پھر روحانی قدروں  کی طرف تیزی سے لوٹ رہی ہے اور وہاں چند سالوں کے بعد کمال اتاترک کا نام لینے والا بھی شاید کوئی باقی نہ رہے۔ ماضی قریب میں شاہ ایران کا انجام بھی ہمیں یہ سوال حل کرنے میں کافی مدد دے سکتاہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فتاویٰ صراط مستقیم
ص492
محدث فتویٰ
حوالہ۔۔۔
http://www.urdufatwa.com/index.php?/Knowledgebase/Article/View/14157/9/

مکمل تحریر >>

Tuesday, 11 December 2018

انجامِ کائنات اور ممکنات تحریر:محمد شاہ زیب صدیقی

انجامِ کائنات اور ممکنات
تحریر:محمد شاہ زیب صدیقی
ابھی سو سال پہلے ہی کی تو بات ہے کہ ہم کائنات کو ساکن تصور کرتے تھے، اسی خاطر سائنسدان اس کے ہمیشہ رہنے کے قائل بھی تھے مگر دینِ اسلام اس معاملے میں سائنس کی نفی کرتا دِکھائی دیتا تھا لیکن کسی نے ٹھیک کہا کہ وقت بہت بڑا استاد ہوتا ہے، وقت نے پوری دنیا کو بتایا کہ اسلام سائنس کے مقابلے میں دُرست ثابت ہوا۔ آئن سٹائن ایک عظیم سائنسدان ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی آدمی بھی تھا، چونکہ نظریہ اضافت کی رُو سے بھی کائنات ساکن نہیں ہوسکتی تھی جس وجہ سے آئن سٹائن کافی بےچین رہتا تھا۔ آئن سٹائن نے اپنی اس بے چینی کا اظہار نظریہ اضافت میں Cosmological constantکو شامل کرکے کیا۔ مگر نظریہ اضافت کے چند ہی سال بعدایڈون ہبل نے اپنی عظیم فلکیاتی دُوربین کے ذریعے ثابت کیا کہ ہماری کائنا ت ہمہ وقت پھیل رہی ہے ۔اس دریافت نے جیسے ہماری دُنیا ہی بدل دی اور فلکیاتی تحقیقات کو نیا رُخ مل گیا۔اسی دریافت کے باعث ہمیں کائنات کی "پیدائش" کے متعلق بھی "کچھ کچھ"سمجھ آنا شروع ہوگیا ۔آج تقریباً تمام سائنسدانوں کا اس پر اتفاق ہوچکا ہے کہ ہماری کائنات کا آغاز انفجارِعظیم (بگ بینگ) سے ہوا۔ بیگ بینگ کے متعلق آج ہم کافی کچھ جان چکے ہیں، لیبارٹری اور سپر کمپیوٹر میں اس کی simulation بھی کرچکے ہیں جس سے یہ نظریہ حقیقت کے قریب تر بھی ثابت ہواہے(بیگ بینگ کے متعلق تفصیلی آرٹیکل کا لنک اس مضمون کے آخر میں موجود ہے)۔یہ قانونِ فطرت ہے کہ جہاں "پیدائش" کا ذکر ہو وہاں "اختتام" کا بھی ذکر جُڑ جاتا ہے۔ کائنات میں موجود عظیم ستارے بھی آخر کار اپنی "طبعی عمر" گزار کر ایک دن موت کے منہ میں چلےجاتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر یہ خیال ذہن کے دریچوں پر دستک دیتا ہے کہ اگر ہر شےکا اختتام موجود ہے تو یقیناً ہماری کائنات کا بھی کوئی نہ کوئی اختتام ہوگا۔اس سوال کے باعث پیدا ہونے والی تشنگی کو ختم کرنے کے لئے سائنسدانوں نے مختلف تحقیقات کیں اور کچھ نئے نظریات سائنسی میدان کی زینت بنے۔ہمیں معلوم ہے کہ ہمارا سورج جس کہکشاں کا حصہ ہے اسے ہم "ملکی وے" کہتے ہیں، ملکی وے جیسی تقریباً 52 کہکشائیں مل کر ایک گروپ بناتی ہیں جسے ہم لوکل گروپ کہتے ہیں، ہماری کائنات میں ایسے اربوں لوکل گروپ موجود ہیں۔سو جب بھی یہ کہا جاتا ہے کہ کائنات پھیل رہی ہے اور تمام کہکشائیں ایک دوسرے سے دُور جارہی ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ تمام لوکل گروپس ایک دوسرے سے دُور ہورہے ہیں۔ اس کی مثال ایسے لیجئے کہ ہمارے لوکل گروپ میں موجود 52 کہکشائیں کشش ثقل کے باعث ایک دوسرے کے قریب آتی جارہی ہیں اور تقریباً 2 کھرب سال بعد یہ تمام کہکشائیں ضَم ہوکرایک بہت عظیم  کہکشاں بنا لیں گیں (اس متعلق تفصیلی آرٹیکل پڑھنے کے لئے لنک مضمون کے آخر میں موجود ہے)۔ لیکن اسی دوران ہمارے لوکل گروپ کے باہر موجود دیگر کہکشائیں ہم سے دُور ہوتی جارہی ہیں۔ جب بیگ بینگ کا واقعہ ہوا تو یہ تمام کائنات ایک نقطے میں یکجا تھی سو کائنات کا درجہ حرارت لامتناہی حد تک زیادہ تھا لیکن جیسے جیسے کائنات پھیل رہی ہے اس کا درجہ حرارت کم ہوتا جارہا ہے آج اس کا درجہ حرارت منفی 270 ڈگری سینٹی گریڈ ہے، لیکن اگر یہ یونہی پھیلتی رہی تو ایک وقت آئے گا کہ اس کا درجہ حرارت منفی 273 ڈگری سینٹی گریڈ (Absolute Zero) ہوجائے گا اور کائنات میں ستارے بھُج جائیں گے اور مزید ستارے بننے کا عمل ختم ہوجائے گا اور یہ کائنات ٹھنڈی ہوکر جانداروں کے رہنے کے لائق نہیں رہے گی سو نئے ستارے نہ بننے کے باعث بلیک ہولز کا اس کائنات پر راج قائم ہوجائے گا، ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہوگا، اس دور کو ہم Dark Era کے نام سے بھی جانتے ہیں، اس دوران بھی کائنات پھیلتی رہے گی آہستہ آہستہ بلیک ہولز بھی ہاکنگ ریڈیشن کے باعث ختم ہوجائیں گےیوں کائنات میں توانائی ہی رہ جائے گی لیکن توانائی کی کثافت اس حد تک کم ہوگی کہ اس سے کوئی نئی چیز وجود میں نہیں آسکے گی، ہماری کائنات تاریکی کا شکار ہوجائے گی عجب خوفناک احساسِ تنہائی ہوگا،اس نظریے کو فلکیات میں Big Freeze کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ابھی 20 سال پہلے ہمیں معلوم ہوا کہ کائنات کے expand ہونے کی رفتار میں پہلے کی نسبت اضافہ ہوا ہےاس کی بڑی وجہ ڈارک انرجی ہے ،ڈارک انرجی ہماری کائنات کو پھیلانے کا کام کرتی ہے جبکہ ڈارک میٹر نامی پرسرارمادہ ستاروں کو کہکشاؤں میں اکٹھارکھے ہوئے ہے(ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر پر تفصیلی مضمون پڑھنے کے لئے آرٹیکل کے آخر میں لنک ملاحظہ کیجئے)۔ جدید سائنسی تحقیقات کے بعد ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تقریباً5 ارب سال پہلے ڈارک میٹر ،ڈارک انرجی پر حاوی تھا مگر پھر ڈارک انرجی نے اس پر سبقت حاصل کرلی۔اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہم سب ایٹمز سے ملکر بنے ہیں اور ایٹمز میں ویک اور سٹرانگ نیوکلئیر فورس  موجود ہوتیں ہیں  جو الیکٹران اور کوارکس جیسے کوانٹمی ذرات کو جوڑکر ایٹم بناتی ہیں۔سو سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ ڈارک انرجی نے جیسے 5 ارب سال پہلے ڈارک میٹر پر غلبہ حاصل کیا تو ہوسکتا ہے کہ آنے والے وقت میں ڈارک انرجی مادے پربھی غلبہ حاصل کرلے اگر ایسا ہوگیا تو الیکٹران اور نیوکلیون (پروٹان، نیوٹران) کے درمیان موجود خلاء بھی ڈارک انرجی سے پُر ہوجائے گی اور اگر ایسا ہواتو جس ڈارک انرجی کے تحت کہکشائیں ایک دوسرے سے دُور جارہی ہیں، اسی تاریک توانائی کے تحت کائنات میں موجود تمام مادے اور جانداروں کے ایٹمز پھٹ جائیں گے اور کائنات میں کوئی بھی مادہ باقی نہیں رہے گا اس نظریے کو سائنسدان  Big Rip کا نام دیتے ہیں۔جہاں یہ دو نظریات دِل دہلا دیتے ہیں وہیں ایک اور نظریہ کچھ عرصہ قبل مقبول ہوا مگر جدید تحقیقات کے بعد اس کا امکان بہت ہی کم ظاہر کیاگیا۔ اس نظریے کے ماننے والے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ کائنات کا پھیلاؤ ایک ممکنہ لمٹ تک پہنچ کر ختم ہوجائے گا اس کے بعد کشش ثقل ،ڈارک انرجی پر حاوی ہوجائے گی اور کائنات جس نقطے سے شروع ہوئی تھی اسی جانب دوبارہ لوٹ جائے گی مگر 20 سال پہلے جب سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ دن بدن کائنات کے پھیلنے کی رفتار بڑھتی جارہی ہے تو اس نظریے کو نظرانداز کردیا گیا۔اس نظریے کو فلکیات میں Big Crunch کے نام سے جانا جاتا ہے۔بگ کرنچ کے نظریے کو اگر سچ مان لیا جائے تو پھراسی کی extension کرکے ہمیں ایک اور ممکنہ نظریہ دیکھنے کو ملتا ہے جس کےتحت جب کبھی Big Crunchوقوع پذیر ہوا تو پوری کائنات ایک نقطے کی جانب لوٹنا شروع ہوجائے جب اس نقطےمیں پہنچ کر بند ہوگی تو دوبارہ سے لامتناہی انرجی کے باعث وہ نقطہ پھٹےگااور بیگ بینگ وقوع پذیر ہوگا۔اس نظریے کے تحت بیگ بینگ اور بیگ کرنچ دراصل ایک چکر (cycle) ہے جو کائنات میں جاری رہتا ہے ہر اربوں سال بعد کائنات بنتی ہے اور ختم ہوتی رہتی ہے۔ اس نظریے کو ہم Big Bounce کے نام سے جانتے ہیں۔ان تمام نظریات کے علاوہ کچھ دہائیاں پہلے ایک اور نظریہ سائنسدانوں کے درمیان موجود تھا لیکن اسے اہمیت نہ دی گئی، مگر ہگز فیلڈز کی دریافت کے بعد اس کو بھی دیگر نظریات کی طرح اہمیت حاصل ہوگئی(ہگز فیلڈ کے متعلق تفصیلی پڑھنے کے لئے لنک مضمون کے آخر میں موجود ہے)۔ یہ حقیقت ہے کہ کائنات میں ہر شے instability سے stability کی جانب گامزن رہتی ہے۔ اسی طرح فیلڈز ہمیشہ اپنی stability کے لئے High energy سے low energy کی جانب سفر کرتی ہیں۔ صرف سمجھنے کے لئے آپ مثال لے سکتے ہیں کہ جیسے اگر کمرے میں درجہ حرارت زیادہ ہوجائے تو کمرے کا دروازہ کھولنے پر درجہ حرارت کم ہونا شروع ہوجاتا ہے، یعنی درجہ حرارت کی فیلڈز نے High energy سے low energy کی جانب سفر کیا۔ بالکل ایسے ہی ہگز فیلڈ تمام کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں، کائنات میں تمام مادے کے بننے کی وجہ یہی ہگز فیلڈز ہیں اور سائنسدانوں کو شک ہے کہ یہ stable نہیں ہیں، سو ہگز فیلڈز نے Stable Higgs Fields بننے کی خاطر کائنات کےکسی حصے میںlow energy levelکی جانب سفر کرنا شروع کردیا تو کائنات کا نقشہ ہی بدل جائے گا اور کائنات ایک نئی شکل میں آجائے گی، لیکن اس تبدیلی کے دوران شدید ہلچل پیدا ہوگی جس کے باعث راستے میں آنے والی ہر شے تہس نہس ہو کر توانائی میں تبدیل ہوجائے گی۔ سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ ایسا کبھی بھی ہوسکتا ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ یہ عمل کائنات کے کسی گوشے میں شروع ہوچکا ہو، ہوسکتا ہے کہ آسمان پر ہمیں کروڑوں نوری سال دور موجود ستارے جو دِکھائی دیتے ہیں وہ اب اس کائنات میں موجود نہ ہو اور کائنات کے خاتمے کا شکارہوچکے ہوں، لیکن ہمیں معلوم نہ ہو کیونکہ ہم ان کا ماضی دیکھ رہے ہیں ان کی وہ حالت دیکھ رہے ہیں جو کروڑوں سال پہلے تھی اور اگر کائنات کے کسی کونے میں یہ عمل شروع ہوچکا ہے تو ہمیں لاکھ کوششوں کے باوجود معلوم نہیں ہوپائے گا کیونکہ کائنات میں کوئی بھی انفارمیشن روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز سفر نہیں کرسکتی، سو اس متعلق ہمیں تبھی معلوم ہوپائے گا جب "پانی سر پہ سے گزر جائے گا"۔اس نظریے کو ہمDeath Bubbleیا Vacuum Decayکے نام سے جانتے ہیں۔کچھ گروہوں کا یہ بھی قیاس ہے کہ ہماری کائنات ایک ربڑ بینڈ کی طرح ہے اور ایک خاص حد تک پہنچ کر پھٹ جائے گی اس نظریے کو  Big Snap کے نام سے جانا جاتا ہے۔جدید تحقیقات یہ بھی بتاتی ہیں کہ کوانٹم سطح پر ایک مظہر ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے جس کو ہم Quantum Tunneling کہتے ہیں۔اس کے مطابق کوانٹمی ذرات سامنے رکھی رکاوٹ پر مسلسل ٹکراتے رہیں تو انہیں پار کرلیتے ہیں، جیسا کہ ہم اپنی سمجھا کہ ہماری کائنات میں ہگز فیلڈز موجود ہیں جن سے ہگز بوزون وجود میں آتے رہتے ہیں اور ہگز فیلڈہی کائنات کو شکل دیئے ہوئے ہیں۔سواگر اس جہان میں ہماری کائنات کے علاوہ بھی دیگر کائناتیں وجود رکھتی ہوئیں تو یہ خدشہ ہے کہ کسی دوسری کائنات کے ہگز بوزون Quantum tunneling کے تحت ہماری کائنات میں داخل ہوسکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو instability کیوجہ سے کائنات کا خاتمہ ہوسکتا ہے ، لیکن سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ایسا واقعہ ہونے کا چانس کھربوں کھربوں سالوں بعد ہی ممکن ہے۔اس نظریے کو Big Slurp کے نام سے جانا جاتا ہے۔بہرحال نظریات جو بھی ہوں ایک بات تو طے ہے کہ کائنات کا اختتام ہونا ہے۔ہماری خوبصورت کائنات کو بھی ایک دن "موت کا ذائقہ"چکھنا ہے۔ بہرحال اس تناظر میں کہا جاتاہے کہ 40فیصد چانس ہے کہ کائنات کا اختتام Big Freeze کے ذریعے ہو، 5 فیصد چانس ہے کہ کائنات کا اختتام  Rig Ripکے ذریعے ہو اور 5 فیصد چانس ہے کہ کائنات کا اختتام دیگر بتائے ہوئے طریقوں میں سے کسی ایک طریقے سے ہو لیکن 50 فیصد چانس ہے کہ کائنات کا اختتام ایسے طریقے سے ہوگا جس کی ہمیں خبر تک نہیں ہوگی!
زیب نامہ
بیگ بینگ کے متعلق تفصیلی مضمون پڑھنے کے لئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجئے
https://www.facebook.com/hellozaib/posts/1226394714127784
ڈارک میٹر کے متعلق تفصیلی مضمون پڑھنے کےلئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجئے
https://www.facebook.com/hellozaib/posts/1340521906048397
ڈارک انرجی کے متعلق تفصیلی مضمون پڑھنے کےلئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجئے
https://www.facebook.com/hellozaib/posts/1346911105409477
ہگز فیلڈزکے متعلق تفصیلی مضمون پڑھنے کےلئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجئے
https://www.facebook.com/hellozaib/posts/1369222536511667
ہمارے لوکل گروپ میں موجود تمام کہکشاؤں کے تصادم کے متعلق تفصیلی مضمون پڑھنے کے لئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجئے
https://www.facebook.com/hellozaib/posts/1332139560219965
#زیب_نامہ
#کائنات_کا_اختتام #EndofUniverse #Universe #BigRip #BigCrunch #BigSlurp #BigFreeze

مکمل تحریر >>